Back to Blog
Diabetes کیا ہے؟
شوگر یا ذیابیطس Diabetes
کیا ہے؟
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
جو غذا ہم کھاتے ہیں وہ ہمیں توانائی دیتی ہے، اس غذا کے وہ حصے جو توانائی دیتے ہیں وہ کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور فیٹ ہیں ـ ان کے علاوہ غذا میں منرل اور وٹامنز بھی شامل ہوتے ہیں مگر وہ جسم کو توانائی نہیں دیتے بلکہ جسم کے دوسرے فنکشنز میں کام دیتے ہیں۔ ان تینوں میں سے ہمارا جسم توانائی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کو استعمال کرتا ہے وہ کاربوہائیڈریٹ ہیں ۔
جب کہ گلوکوز ایک اہم کاربوہائیڈریٹ ہے، یہ یا تو ہماری غذا میں اپنی اصل صورت میں موجود ہوتا ہے یا پھر غذا میں موجود دوسرے کاربوہائیڈریٹس
polysaccharides and oligosaccharides
کی صورت میں ـ
یہ کاربوہائیڈریٹس جب ہمارے نظام انہضام میں جاتے ہیں تو وہ گلوکوز میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ گلوکوز ہمارے نظام انہضام سے ہمارے خون میں شامل ہوتا ہے۔ خون سے یہ گلوکوز جسم کے خلیوں میں جاتا ہے تاکہ خلیے اسے استعمال کرکے توانائی بنا سکیں۔
خون میں موجود اس گلوکوز پر دو عمل ہوں گے ایک تو یہ کہ اس کو توانائی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ جتنا گلوکوز ہم کھاتے ہیں، اس کو ایک ہی بار میں استعمال نہیں کیا جاتا، اس لیے بچے ہوئے گلوکوز کو glycogen کی صورت میں جگر اور مسلز میں سٹور کر لیا جاتا ہے۔ان دونوں کاموں کے لیے گلوکوز کا خلیوں کے اندر داخل ہونا ضروری ہے، مگر گلوکوز خود خلیوں میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اسے خلیوں کے اندر داخل کرنے کے لیے انسولین نام کے ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے جو لبلبہ سے خارج ہوتا ہے۔ جسم کے خلیوں پر انسولین کے لیے خاص receptors ہوتے ہیں۔ جب انسولین ان receptors کے ساتھ جڑ جاتی ہے تو گلوکوز کے لیے خلیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور گلوکوز خلیوں کے اندر چلا جاتا ہے۔ اگر انسولین ان receptors کے ساتھ نہیں جڑے گی تو گلوکوز خلیوں میں شامل نہیں ہوسکے گا اور خون میں اس کی مقدار زیادہ رہے گی جسے hyperglycemia
کہا جاتا ہے ـ جس سے جسم متاثر ہوتا ہے۔
شوگر کو سائنسی زبان میں "Diabetes mellitus" کہا جاتا ہے۔ اس کی دو بنیادی اقسام ہیں۔
پہلی قسم میں لبلبہ انسولین پیدا کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا، اس صورت حال میں مریض انجیکشن کے ذریعے انسولین لیتا ہے۔ اسے Diabetes mellitus type 1
یا پھر
insulin dependent diabetes mellitus
کہتے ہیں۔
دوسری قسم میں لبلبہ تو نارمل ہوتا ہے مگر انسولین خلیوں کے ساتھ جڑ نہیں پاتی اسے Diabetes mellitus type 2
کہتے ہیں۔
شوگر کی کچھ مزید اقسام بھی ہیں-
ٹینشن، ایمرجنسی، تناؤ، پریشانی وغیرہ کی کیفیت میں ہمارا جسم اپنے آپ کو اس ٹینشن کی صورت سے نپٹنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس کیفیت میں ہمارے جسم میں adrenaline اور cortisol جیسے ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون جسم میں مختلف تبدیلیاں لاتے ہیں جیسے کہ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، سانس تیز ہوجاتی ہے، آنکھوں کی pupil زیادہ کھل جاتی ہیں۔ ان سب تبدیلیوں کا مقصد جسم کو ایمرجنسی کی صورت کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے، اسے fight or flight رسپانس کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہارمون خاص کر cortisol ہمارے خون میں گلوکوز کا لیول بھی بڑھا دیتا ہے تاکہ خلیوں کو زیادہ خوراک اور توانائی مل سکے۔ مگر ایک شوگر کے مریض کے پاس خون میں موجود اس گلوکوز کو خلیوں میں شامل کرنے کی قابلیت پہلے ہی کم ہوتی ہے سو خون میں گلوکوز کا لیول بڑھ جانا مزید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور اس طرح ٹینشن کی حالت میں شوگر مزید بڑھ جاتی ہے۔
خون میں گلوکوز کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے جسم کے اہم اعضاء جیسے دل، گردے، آنکھیں، دماغ وغیرہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب خون ان اعضاء کی باریک باریک شریانوں میں گردش کرتا ہے تو گلوکوز کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ان شریانوں میں خون اور nutrients کے بہاؤ متاثر ہوتا ہے، جس سے یہ اعضاء متاثر ہوتے ہیں۔
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation