Back to Blog
گیسٹرو ایسوفیجل ریفلکس ڈیزیز GERD :
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
گیارہویں قسط
گیسٹرو ایسوفیجل ریفلکس ڈیزیز GERD :
یہ معدے کا ایک دائمی مرض ہے جس میں معدے میں موجود تیزاب اور خوراک بار بار واپس خوراک کی نالی (Esophagus) میں آنے لگتے ہیں۔
علامات:
سینے کی جلن (Heartburn):
کھانے کے بعد یا رات کو سوتے وقت سینے میں شدید جلن ہوتی ہے ـ
کھٹا پانی منہ میں آنا (Regurgitation):
معدے کا تیزابی مواد یا تلخ پانی منہ میں محسوس ہوتا ہے ـ
نگلنے میں دشواری (Dysphagia):
خوراک نالی میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
خشک کھانسی اور گلے میں خارش:
تیزاب کے بخارات کی وجہ سے گلے میں سوزش اور دائمی کھانسی کی علامات رونما ہو جاتی ہیں
منہ کا ذائقہ خراب ہونا:
صبح اٹھتے ہی منہ میں کڑوا یا کھٹا ذائقہ محسوس ہوتا ہے ـ
آواز کا بیٹھنا (Hoarseness):
تیزاب کا لیرنکس (صوتی تاروں) تک پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ سے آواز بیٹھ جاتی ہےـ
وجوہات :
Lower Esophageal Sphincter (LES):
خوراک کی نالی کے نچلے پٹھے (والو) کا صحیح سے بند نہ ہونا۔
ہائیٹل ہرنیا (Hiatal Hernia):
معدے کے اوپری حصے کا ڈایافرام سے اوپر سرک جانا۔
موٹاپا اور حمل:
پیٹ پر دباؤ بڑھنے سے تیزاب اوپر کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔
غلط طرز زندگی:
کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا یا رات دیر سے کھانا۔پروسیسڈ اور تلی ہوئی غذاؤں کا زیادہ استعمال:
چکنائی، مرچ مصالحے، چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس۔
تمباکو نوشی اور الکوحل:
یہ والو کے پٹھوں کو ڈھیلا کرتی ہیں۔
تشخیص:
اینڈو اسکوپی :
یہ ٹیسٹ خوراک کی نالی اور معدے کے اندرونی حصے کا معائنہ کے لیے کیا جاتا ہے
ایسوفیجل پی ایچ مانیٹرنگ (pH Monitoring):
اس ٹیسٹ میں 24 گھنٹے میں نالی میں تیزاب کی مقدار اور تعدد کو ناپا جاتا ہے۔
ایسوفیجل مینومیٹری (Esophageal Manometry):
اس میں خوراک کی نالی کے پٹھوں کی حرکت اور دباؤ کی جانچ کی جاتی ہے ـ
بیریم نگلنا اور ایکسرے (Barium Swallow X-Ray):
اس ٹیسٹ میں مریض بیریم نگلتا ہے اور اس کے بعد نالی اور معدے کی ساخت دیکھنے کے لیے ایکس رے کیا جاتا ہے ـ
علاج:
Nux Vomica:
یہ مرغن غذاؤں، چائے، سیڈنٹری لائف اسٹائل اور رات کو تیزابیت بڑھنے کی صورت میں سب سے پہلی دوا ہے ـ
Robinia Pseudacacia:
شدید کھٹی ڈکاریں، رات کو سوتے وقت منہ میں کھٹا تیزابی پانی آنا اور سینے میں جلن۔
Iris Versicolor:
پورے ہاضمے کے نظام میں جلن، تلخ/کھٹی قے اور پینکریاس کی خرابی کے ساتھ تیزابیت۔
Carbo Vegetabilis: پیٹ کا اوپری حصہ گیس سے پھولنا، مسلسل ڈکاریں آنا، سستی اور ہاضم سست ہونا۔
Lycopodium Clavatum:
پیٹ کے نچلے حصے میں گیس، شام 4 سے رات 8 بجے علامات کا بڑھنا، تھوڑا کھانے پر پیٹ بھر جانا۔
Pulsatilla Nigricans:
گھی، مکھن، یا تلی ہوئی چیزیں کھانے سے تیزابیت، پیاس کی کمی، کھٹا پانی آنا۔
Natrum Phosphoricum:
جسم میں تیزابیت کا توازن قائم کرنے اور کھٹی ڈکاریں، زبان پر پیلی تہہ کے لیے بائیو کیمک دوا۔
Arsenic Album:
معدے میں شدید جلن جو گرم پانی پینے سے بہتر ہو، بے چینی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پیاس۔
Phosphorus:
ٹھنڈا پانی پینے کی شدید خواہش لیکن پانی معدے میں گرم ہوتے ہی قے ہو جانا، سینے کی جلن۔
China Officinalis:
پورا پیٹ گیس سے بھر جانا، ڈکاریں لینے سے بھی آفاقہ نہ ہونا، نقاہت۔
Asafoetida:
گیس کا اوپر کو چڑھنا، خوراک نالی میں پھنسی محسوس ہونا۔
Hydrastis Canadensis:
معدے میں خالی پن کا احساس، دائمی قبض اور زبان پر موٹی پیلی تہہ۔
Sulphur:
معدے اور سینے میں جلن، صبح کے وقت پیٹ کی خرابی، گرمی محسوس ہونا۔
Abies Nigra:
ایسا محسوس ہونا جیسے معدے میں سخت ابلا ہوا انڈا اٹکا ہوا ہے، کھانے کے بعد درد۔
Capsicum Annuum:
معدے اور خوراک کی نالی میں مرچوں جیسی شدید جلن، ٹھنڈا پانی پینے سے جلن بڑھنا۔
Argentum Nitricum:
پیٹ کا شدید پھولنا، زبردست ڈکاریں آنا، ذہنی تناؤ یا گھبراہٹ کے ساتھ تیزابیت۔
Condurango:
خوراک کی نالی میں زخم یا رکاوٹ کا احساس، نگلنے میں درد اور تیزابیت۔
Calcarea Carbonica:
موٹے اور سست افراد میں کھٹی ڈکاریں، سر پر پسینہ اور دودھ نہ ہضم ہونا۔
Kali Carbonicum: پیٹ میں سوئی چبھنے جیسا درد، گیس اور بوڑھے افراد میں ہاضمے کی کمزوری۔
Magnesia Phosphorica:
معدے اور پیٹ کے پٹھوں کا مروڑ والا درد جو گرم سیک سے بہتر ہو۔
گھریلو ٹوٹکے اور حفاظتی تدابیر :
سوتے وقت سرہانے کو 6 سے 8 انچ اونچا رکھیں تاکہ تیزاب اوپر نہ آئے۔
کھانے کے بعد فوراً نہ لیٹیں، کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم 3 گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔
ایک ساتھ پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے دن میں 4-5 بار تھوڑا تھوڑا کھائیں۔
بائیں کروٹ سوئیں، بائیں کروٹ سونے سے معدہ نالی سے نیچے رہتا ہے اور ریفلکس کم ہوتا ہے۔
کھانے کے بعد سونف اور سبز الائچی کا استعمال معدے کو سکون دیتا ہے۔
کھانے سے قبل ایلوویرا کا تازہ جوس خوراک کی نالی کی سوزش کم کرتا ہے۔
مفید غذائیں:
کدو، گھیا، توری، گاجر، پالک، بند گوبھی اور آلو (ابلے ہوئے ) معدے میں تیزابیت نہیں بناتے۔
کیلا، خربوزہ، تربوز، سیب اور ناشپاتی جیسے غیر ترش پھل تیزابی مادوں کو متوازن رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
اوٹس (دلیہ)، براؤن رائس، دیسی گندم کی روٹی اور جو کا دلیہ بہت مفید غذائیں ہیں کیونکہ فائبر تیزاب کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروٹین جس میں کم چکنائی ہو وہ استعمال کریں مثلاً مرغی کا سینہ (بغیر جلد)، مچھلی (ابلی یا بیک کی ہوئی)، اور انڈے کی سفیدی۔
ناریل کا پانی، بغیر بالائی کے دودھ کا استعمال، اور سونف یا ادرک کا ہلکا قہوہ علامات کو کم کرنے میں بہت مفید رہتا ہے ۔
زیتون کا تیل اور سورج مکھی کا تیل (بہت کم مقدار میں) کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں
ترش پھل اور سبزی مثلاً لیموں، مالٹا، کینو، گریپ فروٹ، اور ٹماٹر (یا ٹماٹر کی کیچپ/پیسٹ) سے پرہیز کریں کیونکہ یہ معدے کی تیزابیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
سموسے، پکوڑے، فرنچ فرائز، پراٹھے، چکن فرائی اور زیادہ گھی یا مکھن میں بنے کھانے نہ کھائیں
سرخ مرچ، کالی مرچ، کچا پیاز، اور لہسن جو خوراک کی نالی کے والو (LES) کو ڈھیلا کر دیتے ہیں اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے ۔
چائے، کافی، کولڈ ڈرنکس، سوڈا، اور ڈبہ بند جوسز۔
چاکلیٹ، پیسٹری، اور زیادہ چکنائی والی مٹھائیاں۔ بالائی والا دودھ، پنیر، اور دہی کی کھٹی لسی بھی استعمال نہ کریں ۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح پوٹینسی کےانتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
گیارہویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation