Back to Blog
خارش Itching
خارش Itching
خارش ایک عام مسئلہ ہے - خارش کو جِلد کی الرجی کی ایک قسم سمجھا جاتا ہے، اس کی وجہ سے شدید بے چینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر جِلد پر ایک دفعہ خارش شروع ہو جائے تو کافی دیر بعد اس میں کمی آنا شروع ہوتی ہے اور انسان کے پاس جلد کھجانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جِلد کھجانے کی وجہ سے وقتی سکون تو ملتا ہے مگر یہ شدت کے ساتھ دوبارہ نمودار ہو جاتی ہے۔
خارش کا سامنا بہت سی وجوہات کی بنا پر کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ خشکی، جِلد کا تناؤ، اور جگر کے مسائل خارش کی بڑی وجہ ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ خارش کی چنبل جیسی شدید قسم کا بھی سامنا پڑ سکتا ہے۔ چنبل یا ایکزیما لاحق ہونے کی صورت میں اگر جِلد کو کھجایا جائے تو
خشک خارش میں خارش بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن جسم پر کسی قسم کا کوئی دھبہ ،دانا یا نشان نہیں ہوتا اور جہاں خارش ہو رہی ہو وہ جگہ بھی خشک ہوتی ہے۔
یہ ایک زہریلے مادہ جس کو ہم سورا کہتے ہیں اس کے باعث ہوتی ہے عام طور پر اس کا علاج تیل ،مرہم وغیرہ سے کیا جاتا ہے جس سے وقتی طور پر یہ دب جاتی ہے اس کے دبا دینے سے دوسری بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔مثلاً دمہ،تپ دق،مرگی،اندھا پن،بہرہ پن یہاں تک کہ بانجھ پن بھی اس مادہ سورا کے دبنے سے ہوتی ہیں۔بعض افراد میں دوائیاں لینے سے بھی خارش ہوتی ہے۔اس کے علاوہ گرمی دانوں سے بھی خارش ہوت
سکیبیز پیراسائیٹ کپڑوں میں تین دن تک رہتا ہے ۔ اس لئے یہ بستر،چادر ،کپڑوں ،تولیہ وغیرہ سے ایک شخص سے دوسرے کو لگتا ہے ۔اس کے علاوہ جسما رکھا جا تا ہے تا کہ یہ پیرا سائیٹ مر جا ئے ۔ اس کے بعد مریض صا بن اور گرم پا نی سے اپنے جسم کو اچھی طرح دھو تا ہے ۔ساتھ چادر بستر بھی دھو ئے جا تے ہیں ۔ اس کے علاوہ گھر میں موجود سارے افراد کا علاج کرنا بھی ضروری ہے بےشک کسی میں علامات نہ ہو ں کیو نکہ علامات ظاہر ہونے میں دو سے تین ہفتے لگتے ہیں- اس کے علاہ تین دن تک کپڑوں میں یہ جراثیم زندہ رہتا ہے-
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation