Back to Blog
Pituitrinum
شوگر اور پیچیوٹرینم (Pituitrinum):
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
ہومیوپیتھی میں غدود Glands سے حاصل ہونے والی ادویات Sarcodes کہلاتی ہیں ان کا نظامِ انسانی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ پیچیوٹرینم Pituitrinum پیچوٹری گلینڈ Pituitary Gland کے عضلاتی نچوڑ سے تیار کی جاتی ہے۔ پیچوٹری گلینڈ کو تمام غدود کا "ماسٹر گلینڈ" کہا جاتا ہے، اس لیے یہ دوا جسم کے اندرونی غدودی توازن Endocrine Balance، بلڈ پریشر، پٹھوں کے سکڑاؤ، اور میٹابولزم پر زبردست اثرات مرتب کرتی ہے
یہ دوا خاص طور پر ان عوارض میں مفید ہے جہاں غدودی نظام کا توازن بگڑ جائے، جسمانی نشوونما میں خرابی ہو، یا پٹھوں اور خون کی شریانوں کا تناؤ متاثر ہو۔
مریض اکثر شدید تھکن، ذہنی سستی اور اعصابی کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔
جسم کے ہارمونل سسٹمز میں عدم توازن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علامات میں یہ دوا کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
خون کی شریانوں کو سکڑاؤ دینے اور بلڈ پریشر کو باقاعدہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔ یہ دل کے پٹھوں کو طاقت دیتی ہے۔
یہ دوا ذیابیطس انسیپیڈس (Diabetes Insipidus) میں انتہائی مفید ہے شوگر کی اس قسم میں مریض کو بہت زیادہ پیشاب آتا ہے اور بار بار پیاس لگتی ہے۔
عورتوں میں رحم (Uterus) کے پٹھوں کی کمزوری، ولادت کے وقت دردِ زہ کی کمی یا کمزور انقباض Uterine inertia کو درست کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
بچوں میں نشوونما کی سستی، قد کا نہ بڑھنا یا ہڈیوں کی کمزوری میں معاون دوا کے طور پر دی جاتی ہے
شوگر (ذیابیطس) کے حوالے سے اس دوا کا ایک مخصوص اور اہم مقام ہے، ذیابیطس انسیپیڈس (Diabetes Insipidus - کثرتِ بول کا مرض)
میں سب سے نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
شوگر کی یہ قسم عام شوگر (Diabetes Mellitus) سے مختلف ہوتی ہے جس میں انسولین کی کمی کی بجائے پیچوٹری گلینڈ کی خرابی کی وجہ سے اینٹی ڈیوریٹک ہارمون (ADH) متاثر ہوتا ہے۔ مریض کو دن رات کثرت سے بے رنگ، ہلکا اور بغیر شکر کا پیشاب آتا ہے اور شدید پیاس لگتی ہے۔ پیچیوٹرینم پیشاب کی زیادتی کو کنٹرول کرتی ہے اور گردوں کے افعال کو اعتدال پر لاتی ہے۔
اگرچہ عام شوگر (بلڈ شوگر بڑھ جانے) کے لیے یورینیم نائٹریکم، سائیزیجیئم، اور ایسڈ فاس جیسی ادویات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن پیچیوٹرینم کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب شوگر کے ساتھ ساتھ غدودی نظام کا توازن درہم برہم ہو جائے، میٹابولزم شدید متاثر ہو، یا مریض میں ہارمونل کمزوری کی علامات نمایاں ہوں۔ یہ لبلبے اور پیچوٹری گلینڈ کے مابین تعامل کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
استعمال:
اس دوا کو درج ذیل پوٹنسیز میں استعمال کیا جاتا ہے:
6X
اور
12X
غدودی کمزوری، میٹابولزم کے مسائل اور طویل مدتی کیفیات میں اکثر نچلی پوٹنسی یا مدر ٹنکچر 1x کو ترجیح دی جاتی ہے۔
فعال علامات، پیشاب کی زیادتی، اور ہارمونل توازن بحال کرنے کے لیے
30C
اور
200C
استعمال کی جاتی ہیں۔
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation