Back to Blog
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج:
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
(پہلی قسط)
یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو منہ سے شروع ہو کر مقعد (Anus) پر ختم ہوتا ہے۔ اس دوران معمولی بدہضمی سے لے کر شدید دائمی امراض تک، کئی طرح کے ڈس آرڈرز (امراض) پیدا ہو سکتے ہیں۔جن میں سے چند اہم امراض ڈسکس کیے جا رہے ہیں
1.Gingivitis
مسوڑھوں کی سوزش:
جنجیوائٹس دراصل مسوڑھوں کی سوزش اور ورم کا نام ہے۔ یہ دانتوں کی بیماری (Periodontal disease) کی ابتدائی اور ہلکی شکل ہے۔ عام طور پر یہ دانتوں پر پلاک (Plaque - بیکٹیریا کی ایک باریک تہہ) جمنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بڑھ کر دانتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور دانت کمزور ہو کر گر بھی سکتے ہیں۔
علامات:
مسوڑھوں کا سرخ یا سوج جانا، برش یا فلاس کرتے وقت مسوڑھوں سے خون آنا۔ منہ سے مسلسل بدبو آنا۔ مسوڑھوں کا نرم ہو جانا اور دبانے پر درد ہونا
علاج:
1. Merc Sol مرک سال
یہ مسوڑھوں کی سوزش کے لیے ہومیوپیتھی کی سب سے بڑی دوا ہے۔ اگر مسوڑھوں سے آسانی سے خون بہتا ہو، منہ میں تھوک بہت زیادہ بنتا ہو، اور منہ سے شدید بدبو آتی ہو، تو یہ بہترین کام کرتی ہے۔ اس دوا کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ رات کے وقت تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
2. Kreosotum
کریوزوٹم
جب مسوڑھوں سے گہرا، کالے رنگ کا خون نکلے اور مسوڑھے بالکل نیلے یا سوجے ہوئے دکھائی دیں۔ دانتوں میں تیزی سے کیڑا (Decay) لگ رہا ہو اور منہ کا ذائقہ انتہائی کڑوا ہو۔
3. Phosphorus فاسفورس
اگر مسوڑھے بہت زیادہ حساس ہوں اور ذرا سا چھونے یا برش کرنے پر بھی ان سے فوری اور تیز خون بہنا شروع ہو جائے۔ خون کا رنگ چمکدار سرخ ہو ۔
4. Hepar Sulph
ہیپر سلف
جب مسوڑھوں میں شدید درد ہو، وہ چھونے سے بہت حساس ہوں، اور ان میں پیپ (Pus) پڑنے کا خطرہ ہو یا پیپ بن چکی ہو۔ مریض کو ٹھنڈی چیزوں سے تکلیف بڑھتی ہے۔
5. Silicea
سلیشیا
اگر مسوڑھوں پر چھوٹے چھوٹے دانے یا پھوڑے بن جائیں جن سے پیپ نکلتی ہو، اور دانتوں کی جڑیں کمزور ہو رہی ہوں۔ یہ دوا پیپ کو صاف کرنے اور مسوڑھوں کو مضبوط کرنے میں مددگار ہے۔
6. Carbo Veg
کاربو ویج
جب مسوڑھے دانتوں کا ساتھ چھوڑ رہے ہوں (Receding gums)، مسوڑھے نرم اور سپنج جیسے ہو گئے ہوں، برش کرتے وقت ان سے خون نکلتا ہو۔ اس کے ساتھ منہ کا ذائقہ خراب رہتا ہو۔
7. Nitric Acid
نائٹرک ایسڈ
اگر مسوڑھوں میں چبھن دار درد (جیسے کانٹا چبھ رہا ہو) ہو، مسوڑھے سفید یا سوجے ہوئے ہوں اور منہ میں چھوٹے چھوٹے السر (چھالے) بن گئے ہوں جن سے خون نکلتا ہو۔
8. Lachesis
لیکیسس
جب مسوڑھے گہرے ارغوانی یا نیلے رنگ کے ہو جائیں، ان میں شدید سوجن ہو، اور خون بہنے سے مریض کو درد میں تھوڑا سکون محسوس ہو۔ عام طور پر بائیں طرف کی تکلیف میں زیادہ مفید ہے۔
9. Staphysagria
سٹافیساگریا
یہ دوا ان مریضوں کے لیے بہترین ہے جن کے دانت بہت حساس، کالے اور چمکدار نہ رہے ہوں، اور مسوڑھے انتہائی دردناک اور سوجے ہوئے ہوں۔ دانتوں کو چھونے یا ٹھنڈا لگنے سے درد بڑھتا ہے۔
10. Plantago
پلانٹیگو
اگر مسوڑھوں کی سوزش کے ساتھ دانتوں میں شدید، گرج دار درد ہو جو گالوں یا کان تک جاتا ہو۔ یہ مسوڑھوں کے درد اور سوزش کو فوری کنٹرول کرنے کے لیے (مدر ٹنکچر کی شکل میں مقامی طور پر لگانے کے لیے بھی) بہت مشہور ہے۔
نوٹ
ہومیوپیتھی میں دوا کی طاقت (Potency) اور خوراک کا تعین مریض کی مجموعی حالت اور علامات کی شدت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ابتدائی علامات میں 30C طاقت موزوں رہتی ہے، لیکن سیلف میڈیکیشن کے بجائے کسی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے ہی علاج شروع کرنا چاہیے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
پہلی قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گا
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation