Back to Blog
گندم سے الرجی
*گندم جو اور جئی سے الرجی کے مریضوں کے لیے خصوصی ہدایات*
اس مرض میں گندم ، جو اور جئی سے بنی ہوئی کوئی چیز ہضم نہیں ہوتی ، اس کی وجہ سے انتڑیوں کی جھلی زخمی ہو جاتی ہے اور خوراک جزو بدن نہیں بنتی، اس لیے اس مرض میں مبتلا مریضوں کو چاہیے کہ وہ مندرجہ ذیل احتیاطیں کریں
گندم کی روٹی، ستو، جو اور جئی سے تیار کردہ کھانے پینے کی اشیا سے پرہیز کریں، ڈبل روٹی ، رسک، بسکٹ، میدہ سے تیار کردہ اشیاء ، نان، سوجی سے بنی ہوئی اشیا ، ہارلکس، ٹافیاں ، سویاں، چاکلیٹ، نمک پارے، شکر پارے، کچوریاں، نوڈلز، کیک، پیسٹری، پیزا، مائلو، بیکری آئٹمز ، بارلے ڈرنکس اور دیگر وہ تمام اشیاء جو گندم جو اور جئی سے تیار ہوتی ہیں یا ان کے انگریڈینٹس میں ان میں سے کوئی چیز شامل ہے وہ استعمال نہ کریں ، اپنے معالج کے مشورے کے بغیر کسی قسم کا کوئی فوڈ سپلیمنٹ یا کسی بھی مرض کے لیے کوئی شربت استعمال نہ کریں، کیلشیم کو پورا کرنے کے لیے دودھ ، دہی، چیز، لسی، مکھن اور انڈوں کا استعمال کریں، وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سن باتھ لیں، وٹامن کے کی کمی پوری کرنے کے لیےکیلے کھائیں، وٹامن بی 12 کے لیے سویا بین، انڈے، ہر قسم کے پھل اور سبزیاں کھائیں، پروٹین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گھی ، مکھن، گوشت، مچھلی کا استعمال کریں،
کارن یعنی مکئی، سویابین دودھ سے بنی تمام پروڈکٹس گلوٹن فری ہوتی ہیں یہ خوب استعمال کریں، تمام فروٹ، تمام سبزیاں ، ہر قسم کا گوشت، آئس کریم، انڈے، آلو ، پھلوں کے جوس استعمال کیے جا سکتے ہیں،
باجرے کا آٹا ، چاول کا آٹا، مکئی کا آٹا، بیسن یعنی چنے کا آٹا ، چری کا آٹا ملا کر روٹی بنائیں اور سبزی، دال یا گوشت کے ساتھ کھائیں، اسی آٹے کے پراٹھے یا بسکٹ بھی بنائے جا سکتے ہیں البتہ آٹا کسی ایسی چکی سے نہ پسوائیں جہاں گندم پیسی جاتی ہو، تمام ویجیٹیبل آئل ،سرسوں کا تیل، سویا بین کا تیل، سورج مکھی کا تیل، زیتون کا تیل بے دھڑک استعمال کریں، بیسن کا حلوہ، بیسن کے لڈو، خشک مصالحہ جات، اجوائن، الائچی ، ٹماٹر، دھنیا، کارن فلیکس ، شہد، نمک، ساگودانے کی کھیر، کھوپرا ، بادام، پھول مکھانے، کشمش، کسٹرڈ، کوک، پاپ کارن کھائیں
روٹی پکانے کے لیے وہ توا یا یا روٹی رکھنے کے لیے وہ رومال بھی استعمال نہ کریں جو گندم کی روٹی بنانے کے لیے یا رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے،
گندم کی کٹائی کے موسم میں ماسک استعمال کریں، یاد رکھیے گلوٹن الرجی یا سیلیک ڈیزیز کے مریض اگر بدپرہیزی کرتے ہیں اور بروقت علاج نہیں کرواتے ہیں تو ہڈیوں کا ٹیڑھا پن، آنت کا کینسر یا بچیوں میں ماہواری نہ آنا، قد کا نہ بڑھنا، سوکڑا،شادی کے بعد بے اولادی کے مسائل ، حمل کا گر جانا اور مرگی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے پرہیز کے ساتھ اس کا ہومیوپیتھک علاج بھی بے حد ضروری ہے
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation