Back to Blog
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
نویں قسط
لیوکوپلیکیا
Leukoplakia
منہ کے سفید دھبے
منہ کے اندر ہونے والی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں زبان، مسوڑھوں یا گالوں کے اندرونی حصے پر سفید یا خاکستری رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔
علامات:
منہ کے اندر ایسے دھبے بننا جنہیں رگڑنے یا کھرچنے سے بھی صاف نہ کیا جا سکے۔
یہ دھبے چھونے میں تھوڑے سخت، کھردری یا موٹی سطح کے محسوس ہو سکتے ہیں۔
بعض اوقات سفید دھبوں کے ساتھ چھوٹے سرخ نشانات بھی نظر آتے ہیں ان پر خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان میں کینسر کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔
تکلیف یا جلن:
عام طور پر ان میں درد نہیں ہوتا، لیکن گرم، نمکین یا مرچوں والی چیزیں کھانے سے جلن ہو سکتی ہے۔ وجوہات:
لیوکوپلیکیا کی سب سے بڑی وجہ منہ میں مسلسل ہونے والی سوزش یا رگڑ (Chronic Irritation) ہے۔
جس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں
سگریٹ، سگار، پائپ پینا یا چھالیہ، گٹکا، نسوار اور پان کا کثرت سے استعمال۔
شراب کا باقاعدگی سے استعمال۔
تیز دھار والے ٹوٹے ہوئے دانت یا غلط فٹنگ والے مصنوعی دانت (Denture) جو مسلسل گال یا زبان سے رگڑ کھاتے رہیں۔
قوت مدافعت کی کمی یا بعض وائرل انفیکشنز (جیسے Epstein-Barr Virus جو Hairy Leukoplakia کا سبب بنتا ہے)۔
تشخیص :
معالج منہ کا معائنہ کر کے دھبوں کی رنگت اور سختی کو دیکھتا ہے۔
بائیوپسی (Biopsy): یہ سب سے اہم اور حتمی ٹیسٹ ہے۔ دھبے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر لیبارٹری بھیجا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کہیں کینسر (Malignancy) کی طرف تو نہیں جا رہا۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علاج ہمیشہ مریض کی مجموعی علامات اور مزاج (Constitutional Symptoms) کے مطابق کیا جاتا ہے۔ لیوکوپلیکیا کے لیے یہ ادویات بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں:
Merc Sol مرک سال:
منہ میں رطوبت اور تھوک کی زیادتی، زبان سوجی ہوئی اور دانتوں کے نشانات پائے جائیں۔ منہ سے شدید بدبو آتی ہو اور رات کے وقت علامات بڑھ جائیں۔
Nitric Acid نائٹرک ایسڈ:
دھبوں کے کنارے ناہموار ہوں اور ان میں چبھنے والا درد جیسے کانٹا چبھ رہا ہو۔ یہ دوا خاص طور پر ان جگہوں کے لیے مفید ہے جہاں منہ کی جلد اور جھلی آپس میں ملتے ہیں۔
Thuja Occidentalis تھوجا:
اگر دھبے سخت ہوں، مسام دار یا مسے (Warts) کی طرح ابھرے ہوئے محسوس ہوں۔ یہ جسم میں غیر طبعی ابھاروں اور اضافی بافتوں (Overgrowth) کو روکنے کی بہترین دوا ہے۔
Hydrastis Canadensis ہائیڈراسٹس:
زبان اور منہ کے اندرونی حصے پر لیس دار، زرد رنگ کی رطوبت جم جائے اور زبان پر موٹی تہہ ہو۔ کینسر کی ابتدائی علامات کو روکنے کے لیے بھی معاون سمجھی جاتی ہے۔
Arsenicum Album آرسینک البم:
منہ میں شدید جلن ہو جو گرم مشروبات سے بہتر محسوس ہو۔ مریض کو پیاس بار بار اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں لگتی ہو اور شدید بے چینی ہو۔
Kalium Cyanatum کالی سائیانیٹم:
زبان پر پائے جانے والے شدید اور ضدی سفید دھبوں (لیوکوپلیکیا) کے لیے یہ ایک مخصوص اور گہری اثر رکھنے والی دوا ہے، جہاں زبان پر گہرے کٹاؤ کے نشانات بن رہے ہوں۔
Borax بوریکس:
منہ میں گرمی کا احساس، چھالے اور سفید دھبے جو بہت حساس ہوں اور جن سے معمولی رگڑ پر خون نکلنے کا خدشہ ہو۔ بچہ یا بڑا کوئی بھی گرم چیز کھانے سے کترائے۔
Lachesis لیکیسس:
منہ کے بائیں طرف علامات زیادہ ہوں، دھبوں کا رنگ گہرا یا جامنی مائل ہو، اور مریض گلے یا منہ کے پاس کسی بھی قسم کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکے۔
Phytolacca Decandra فائٹولاکا:
منہ اور حلق خشک ہو، نگلتے وقت درد کانوں تک جائے، اور زبان کے کناروں پر جلن دار دھبے ہوں۔
Sulphur سلفر:
دائمی مریضوں کے لیے جہاں منہ میں مستقل جلن رہتی ہو، صبح کے وقت زبان پر سفید تہہ جمی ہو، اور مریض کو گرمی زیادہ لگتی ہو۔ یہ دوا قوت مدافعت کو بیدار کرنے کے لیے بھی دی جاتی ہے۔
حفاظتی تدابیر :
سگریٹ، پان، گٹکا، چھالیہ، نسوار اور الکوحل کو فوری اور مکمل طور پر ترک کر دیں۔
اگر کوئی دانت تیز دھار ہے یا مصنوعی دانت چبھتا ہے، تو فوراً ڈینٹسٹ سے اس کا علاج کروائیں۔
دن میں دو بار برش کریں اور ماؤتھ واش کا استعمال کریں (مگر بغیر الکوحل والا ماؤتھ واش استعمال کریں)۔
ایسی غذا لیں جو اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن A اور C سے بھرپور ہو (جیسے ہری مرچیں، گاجر، پالک، اور تازہ پھل)۔
گھریلو ٹوٹکے:
گھریلو ٹوٹکے اس مرض کو جڑ سے ختم نہیں کرتے، لیکن یہ سوزش اور جلن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
ہلدی میں "کرکومین" (Curcumin) پایا جاتا ہے جو سوزش کو کم کرتا ہے۔ ہلدی کے پاؤڈر میں تھوڑا سا پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں اور دھبے پر لگائیں، یا نیم گرم پانی میں ہلدی ملا کر کلیاں کریں۔
صبح نہار منہ ایک چمچ خالص ناریل کا تیل منہ میں ڈال کر 10 سے 15 منٹ تک گھمائیں (کلیاں کریں) اور پھر تھوک دیں۔ یہ منہ کے جراثیم اور زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے۔
تازہ ایلوویرا کا گودا (جیل) متاثرہ جگہ پر لگانے سے منہ کو ٹھنڈک ملتی ہے اور سوزش کم ہوتی ہے۔
نیم گرم پانی میں چٹکی بھر نمک ملا کر دن میں دو سے تین بار غرارے کرنے سے منہ کا ماحول صاف رہتا ہے۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح پوٹینسی کےانتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
نویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation