Shama Homeo Clinic Logo
Shama Homeo Clinic
Get Well, Stay Well
Back to Blog

ناک کی بندش/سانس کی تنگی

ناک کی بندش/سانس کی تنگی
ناک کی بندش/سانس کی تنگی Nasal congestion / shortness of breath ناک انسانی بدن کا وہ عضو ہے جو جسم میں جانے والی آکسیجن کو فلٹر کرنے، گردو غبار کے ذرات اور دوسری آلائشوں، جراثیموں سے پاک کر کے مکمل صاف و شفاف ہوا یعنی آکسیجن پھیپھڑوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ ناک میں اس کائنات کے مالک نے جھلی کے ساتھ ساتھ بال بھی پیدا کیے ہیں تاکہ ہوا کی فلٹریشن کا مکمل بندوبست ہوسکے، ناک کی جھلیوں میں سوزش انفیکشن ہونے سے سائینس اور ناک بند ہونے کی کیفیت پیدا ہوکر تکلیف کا سبب بن جاتی ہے۔ ناک کی بندش یا جکڑی ہوئی ناک اس وقت ہوتی ہے جب ناک اور اس سے ملحقہ ٹشوز اور خون کی نالیاں زیادہ سیال کے ساتھ سوج جاتی ہیں، جس کی وجہ سے جکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے، ناک کی تنگی ناک سے خارج ہونے یا ناک کا بہنا کے ساتھ ہو سکتی ہے ۔ ناک کی جکڑن عام طور پر بڑے بچوں اور بڑوں کے لیے صرف ایک پریشانی ہوتی ہے لیکن ناک بند ہونا ان بچوں کے لیے سنگین ہو سکتا ہے جن کی ناک بند ہونے سے نیند میں خلل پڑتا ہے، یا ان بچوں کے لیے، جنہیں اس کے نتیجے میں کھانا کھلانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناک بند ہونا پولپس یا ٹیومر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ناک کی بندش کو بھری ہوئی ناک بھی کہتے ہیں لیکن میڈیکل میں Rhinorrhea or Rhinitis کہا جاتا ہے، یہ اکثر سائنس انفیکشن کی علامت ہوتی ہے۔ بندش عام طور پر ناک کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے ناک میں کوئی ایسی چیز بھری ہوئی محسوس ہوتی ہے جس سے روزمرہ کی زندگی کی سرگرمیوں کو انجام دینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے انسان کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جیسا کہ نیند میں پریشانی، ہلکا سر درد، چھینکیں، کھانسی، مسلسل گلے کو صاف کرنے کی ضرورت محسوس کرنا، سونگھنے کی حس کے مسائل پیدا ہو جانا، ناک سے سانس لینے میں دشواری اور پریشان کن خراٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بھری ہوئی ناک کے ساتھ ناک کا بہنا یا ناک سے خارج ہونا بھی ہو سکتا ہے ۔ ناک بند ہونا بالغوں یا بڑے بچوں کے لیے صرف ایک پریشانی ہے، لیکن بچوں کے لیے کافی شدید ہو سکتا ہے اگر یہ دودھ پلانے میں مداخلت کر رہا ہو یا بچوں کو آکسیجن کی ناکافی سطح کی وجہ سے نیند کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک تکلیف دہ مرض عام ہوتا جا رہا ہے جس میں ناک کے نتھنے بند، سر بھاری، گلا خراب، سانس لینے میں دقت، بعض اوقات بخار اور کھانسی کی شکایات بھی پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ان علامات کے نتیجے میں ناک کی تکلیف کو عام فہم زبان میں لوگ ڈسٹ الرجی اور جدید میڈیکل سائنس نے اسے سائینس کا نام دے رکھا ہے۔ ناک اور حلق کے مابین ربط پیدا کرنے والے خم دار جوف یا حصے کو سائینس کہا جاتا ہے،اس خم دار جوف یا حصے سائینس میں ورم یا انفیکشن کی کیفیت پیدا ہونے کو سائنوسائٹس کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا افراد کو چھینکیں آنا، ناک اور آنکھوں سے پانی کا بہنا، سر درد کرنا اور بے سکونی کا سامنا رہتا ہے۔ تیز خوشبو، گردو غبار، دھواں، تیز روشنی، مٹی کی دھول، پرانے کپڑوں کی ہمک، مقوی اور مرغن خوراک اور ٹھنڈے پانی سے فوری الرجی ہو کر چھینکیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے مریضوں کے کانوں میں شور کی آوازیں، کان بند ہونا اور سر چکرانے جیسی علامات بھی عام دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ناک بند ہونا کسی بھی ایسی چیز کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو ناک کے ٹشوز کو جلن یا سوجن کرتی ہے۔ انفیکشنز: جیسے نزلہ، فلو یا سائنوسائٹس، الرجی اور مختلف جلن، ہڈی کا بڑھنا، تمباکو کا دھواں، سبھی ناک بہنے کا سبب بن سکتے ہیں، کچھ لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے دائمی طور پر ناک بہتی رہتی ہے ایک ایسی حالت جسے یہ نان الرجک رائنائٹس یا واسوموٹر رائنائٹس یا وی ایم آر کہا جاتا ہے۔ طبی ماہرین چھینکیں آنا کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے بھی سمجھتے ہیں۔ایسی صورتحال میں قوت مدافعت میں اضافہ کرنے سے بھی امراض کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ان علامات کو ابتداء میں سنجیدگی سے دیکھا نہیں جاتا، اسے عام نزلہ و زکام سمجھ کر ہی کچھ خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ نزلہ و زکام ایسے الفاظ ہیں جن سے ہر شخص صرف آشنا ہی نہیں بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور اس کی گرفت میں رہ چکا ہوتا ہے، ہمارے ہاں صحت کا مناسب شعور نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نزلے و زکام کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کرتی ہے۔ اگر کچھ لوگ اس طرف دھیان بھی دیں تو ایک جوشاندہ پی لینے یا پھر کوئی ایلوپیتھک گولی کھانے کو کافی خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ مرض اتنا غیر ضرر بھی نہیں کہ ہم اس کے علاج پر خاص توجہ نہ دیں۔ اگر نزلے کا بر وقت اور مناسب سدِ باب نہ کیا جائے تو یہ سائینس جیسا تکلیف دہ مرض بن جاتا ہے۔ سائینس یا الرجی میں عام طور پر ایسے افراد مبتلاء دیکھنے کو ملتے ہیں جو مزاج کے لحاظ سے کافی حساس ہوتے ہیں، ان کی حسیات کافی تیز ہوتی ہیں اور ہلکی سی چیز کو فوری محسوس کرتے ہوئے اس کا رد عمل دیتی ہیں۔ ایسے لوگ جو فاسٹ فوڈز، بریانی، بڑا گوشت،کولڈ مشروبات، بیکری مصنوعات، تلی، بھنی، مرغن اور بادی و ترش غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں انہیں سائینس انفیکشن لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ سائینس لاحق ہونے کا اندیشہ ایسے افراد کو بھی رہتا ہے جن کے جگر پر چربیلے مواد جمع ہونے کا رجحان پایا جاتا ہو۔ دائمی نزلہ اور زکام بھی سائینس کا سبب ہوسکتا ہے۔ قبض کا مسلسل رہنا، میٹابولزم کا سست ہونا اور بدن میں بلغمی رطوبات غیر ضروری جمع ہونا بھی اس بیماری کا سبب ہوسکتا ہے۔ ناک کی جھلی کی سوزش نزلے کا سبب بنتی ہے۔ ناک میں پیدا ہو جانے والی رسولی یا ٹیومر یا گلٹی بھی بعض اوقات اس مرض کا باعث بن جاتی ہے ۔ طویل عرصے تک نزلہ وزکام کا رہنا ،نزلاوی مواد کا ناک کی جھلیوں میں جم جانا ، ناک کی جھلیوں کا جوف سخت ہو جانا بھی سائینس کا باعث بنتا ہے۔ سائینس میں مبتلا افراد کو سب سے پہلے اپنی طبعی حساسیت سے چھٹکارا پانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ حساسیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ترش ، ٹھنڈی اور تلی ہوئی اشیاء کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے ۔ ہومیو پیتھک علاج نکس وامیکا نکس وامیکا کے مریض کو رات کے وقت میں ناک بھری ہوئی یا جکڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، ایسے مریضوں کے لے بہت فائدہ مند ہے۔ رات کے وقت ناک میں شدید تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، دن کے وقت ناک خارج ہوتی رہتی ہے جبکہ رات کو ناک بند ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ مریض ایک طرف ناک میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف سے مواد خارج ہوتا رہتا ہے، کھلی ہوا میں جانے سے ناک کی بندش میں آضافہ ہو جاتا ہے۔ سمبوکس نائگرا اس دوا میں مریض کو انتہائی خشک ناک کے ساتھ ناک میں رکاوٹ ہوتی ہے جس کے لیے یہ اعلیٰ ہومیوپیتھک دوا ہے۔ بندش کی وجہ سے سانس لینے میں انتہائی دشواری ہوتی ہے جس سے مریض کو اٹھنے بیٹھنے پر مجبور کر دیتی ہے، زیادہ تر رات کو، دم گھٹنے اور سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے نیند سے اٹھنا پڑتا ہے لیکن یہ بچوں کی ناک کی بندش کے لیے بہت ہی مؤثر دوا ہے۔ بچے رات کو منہ کھول کر سانس لیتے ہیں، منہ بند ہونے پر ناک سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور بچے کو ماں کا دودھ لیتے وقت بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیمنا مائنر لیمنا مائنر پولپس کی وجہ سے ناک کی بندش کو دور کرنے کی بہترین دوا مانی جاتی ہے، مریض کو ناک کا بھر جانے کا احساس اور سانس لینے میں دشواری کے ساتھ بو کی کمی ہوتی ہے کچھ لوگوں کو ناک سے اخراج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسروں میں، ناک کی اندورنی سطح خشک رہتی ہے، بند ناک میں ناگوار بدبو آتی ہے۔ لیمنا مائنر پولیپس کے لیے سب سے مؤثر دوا سمجھی جاتی ہے ، گیلے یا مرطوب موسم میں صورت حال بگڑ جاتی ہے۔ پولیپس کے معاملات میں، لیمنا مائنر ناک کی بندش کو کم کرتی ہے، سانس کی تکلیف سے نجات فراہم کرتا ہے، اور سونگھنے کی طاقت دوبارہ بحال کرتی ہے۔ آرسینک ایلبم جب ناک میں الرجی کی وجہ سے رکاوٹ ہو۔ جس میں ناک سے جلن دار پانی خارج ہو، ناک سے بہت زیادہ پانی اور شدید رطوبت خارج ہوتی ہے، شدید پیاس لگتی ہے لیکن پانی کم یا گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اور مریض کھلی ہوا میں بدتر محسوس کرتا ہے۔ جیلسیمیم جب سر درد کے ساتھ ناک میں بندش ہونے کا احساس ہو، ناک سے مواد روانی سے خارج ہو اور طبیعت میں کاہلی سستی کی کیفیت ہوا کرتی ہے۔ سیناپس نگرا سیناپس نگرا سانس کے اعضاء پر اپنا بہت ہی واضح اور اچھا اثر رکھتی ہے سانس کے اعضاء پر اس کا واضح اثر پڑتا ہے اور دمہ سے وابستہ حالات میں یہ بہترین دوا مانی جاتی ہے، یہ الرجی کی وجہ سے ناک بند ہونے کے احساس لئے مفید ثابت ہونے والی دوا ہے، یہ اس وقت دی جاتی ہے جب الرجی کی وجہ سے متبادل نتھنے بند ہو جائیں۔درد ناک سر درد، گلے کی سوزش، انفلوئنزا، ناک کا بہنا اور آنکھوں سے بھی اخراج ہوتا ہے۔ کلکیریاکارب ناک کے پولیپس کی وجہ سے ناک بند ہونے کے لیے کلکیریاکارب شاہی دوا جانی جاتی ہے، یہ زیادہ تر بائیں طرف والے ناک کے پولیپس کی دوا ہے، بائیں طرف کا نتھنا بند محسوس ہوتا ہے۔ ناک سے پیلے رنگ کا مواد خارج ہوتا ہے، ناک میں درد اور السر کا احساس بھی محسوس ہوتا ہے۔ ناک میں ناگوار بدبو بھی نمایاں ہوتی ہے، ناک کی جڑ میں بہت زیادہ سوجن ہوتی ہے، موسم کی تبدیلی سے ناک کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ کیلکیریا کارب کے مریض انڈوں کی خواہش رکھنے والے ہوتے ہیں اور چکنائیوں کو پسند کرنے والوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ سینگونیریا پولیپ کی وجہ سے ناک بند ہونے کے لیے یہ اپنی علامات پر موثر ترین ہے جب ناک بند ہونے کے ساتھ ساتھ ناک سے پانی نکلتا ہے۔ خارج ہونے والے مادہ کی نوعیت بہت جلتی ہے اور اس کے مریض کو چھینک بھی آتی ہے۔ کالی بائیکرومیکم سائنوسائٹس کی وجہ سے ناک بند ہونے کی یہ کمال اہمیت رکھنے والی دوا ہے، اس میں مواد ناک سے خارج ہونے والا مادہ حلق میں گرتا ہے جسے کیرا گرنا کہتے ہیں مادہ بہت گاڑھا اور زیادہ تر پیلا ہوتا ہے اور مریض کو ناک کی جڑ میں درد اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ یہ دوا ناک اور ماتھے کی ہڈیوں کے انفیکشن کی وجہ سے آنکھوں کے اوپر سر درد کے لئے بہترین ہے آنکھیں بھی سوج سکتی ہیں۔ سیلیسیا جب ناک میں خشک، سخت کرسٹس ( چھلے ) بن جائے جس کے ساتھ ناک بند ہو جائے تو سلیسیا بہترین علاج ہے۔ کرسٹس کو ہٹانے کی کوشش کرنے پر خون بہنے لگ جاتا ہے، سلیسیا سائنس انفیکشن کے لیے بہترین دوا ہے۔ یہ دائیں جانب سر کی ہڈیوں کے سر درد کے لیے انتہائی اہمیت رکھنے والی دوا ہے۔ اس کا مریض سردی محسوس کرتا ہے، سرد مزاج ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہوا کے لیے بہت حساس ہوتا ہے۔ اسے گرم طریقے سے خود کو ڈھانپنے سے آرام ملتا ہے۔ ناک کا بھر جانا ہے، ناک سے خارج ہونے والا مادہ سخت پرتوں میں بند ہوتا ہے ان پرتوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے پر خون بہہ رہا ہے۔ پلساٹیلا ناک فل بھری ہوئی ہونے کا احساس، موٹی، زرد یا سبزی مائل مواد پیدا ہوتا ہے ، اگر شام کے وقت ناک میں تنگی بڑھ جاتی ہو اور مریض گرم، بند کمروں میں اور باہر جانے پر بہتر محسوس کرتا ہے۔ کالی آئوڈائیڈ ناک کی ہڈیوں میں سوزش کی وجہ سے ناک کی ہڈیاں ناک کو بند کر دیں، ناک سے پتلے مادے کا اخراج ہو، خارج ہونے والا مادہ بڑی مقدار میں پانی دار ہوتا ہے اور شدید جلن کا باعث بننے والا ہوتا ہے۔ کالی میور سردی کی وجہ سے ناک بند ہو جائے، ناک سے خارج ہونے والا مادہ سفید ہوتا ہے اور زبان پر سفید کوٹنگ نظر آتی ہے اور ناک کی ہڈیوں کے مسائل میں اچھی دوا ہے۔ اگرافس نٹینس ایڈنائڈز کی وجہ سے ناک کی بندش ہو چکی ہو، نتھنوں میں رکاوٹ، بچہ منہ سے سانس لے، بڑھے ہوئے ٹانسلز، بلغم کا بہت واضح اخراج ہوتا ہے۔ مرک سال ناک کی ہڈیوں کے سوزش کی وجہ سے ناک میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہو ، ناک سے خارج ہونے والا مادہ جلن پیدا کرنے والا ہو، مواد جلنے کے احساس کے ساتھ زرد سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ ناک کی اندرونی جھلی ناگوار اور موٹی تیزابی مواد خارج ہونے کی وجہ سے زنگ آلود اور زخمی ہو جاتی ہے۔ مریض کو سر میں گرمی کے ساتھ ناک سے اخراج ہونے کے ساتھ سر درد ہوتا ہے۔ اس کے مریضوں میں منہ میں سے رال یا تھوک کا آضافہ ہوا کرتا ہے، اگر ساتھ منہ سے ناگوار بدبو آنے لگے تو یہ بہت فائدہ مند دوا ثابت ہوتی ہے۔ رسٹاکس ناک بند ہونے کے لیے، خاص طور پر جب یہ حالت ٹھنڈے، مرطوب یعنی نم دار موسم یا بدلتے ہوئے موسم کے دوران ہو، مریض بے چین اور تیز رفتار ہو، حرکت سے اور گرمی سے مریض کچھ راحت وسکون ملتا ہے۔ جن کے ناک میں غدود، ٹیومر یا ناک کی ہڈی کے بڑھنے جیسے مسائل ہوتے ہیں ان میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ادویات کے استعمال سے چند یا کچھ افراد ٹھیک نہیں ہوا کرتے ہیں کچھ کو بالکل ہی ریلیف نہیں ملتا کچھ کو ریلیف ملنے کے بعد مسائل ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں ان کے لیے سرجری ایک بہترین آپشن ہوتا ہے لیکن سرجری کے بعد ان میں اخراجی اور الرجی جیسے مسائل درپیش رہتے ہیں پھر ان کے لیے بعد میں ہومیو پیتھک ادویات بہترین چوائس ہوتا ہے۔ مریض اپنی طرف سے ادویات استعمال نہ کرے بلکہ کسی اچھے ہومیو معالج کے مشورے سے استعمال کریں ورنہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Consult with our Specialists

Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.

Book a Consultation
Book Appointment WhatsApp
Shama Assistant
Online
Hello! Welcome to Shama Homeo Clinic. 🌿 I am your AI receptionist. How can I help you today?
Just now
0
Cart Summary
Rs. 0
Checkout Now
Search Products
Start typing to search products...
Your Cart
0
Your Cart is Empty

You haven't added any homeopathic remedies to your cart yet.

Explore Shop