Back to Blog
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
چھٹی قسط
Sialadenitis
سائلادینائٹس
تھوک بنانے والے غدود (Salivary Glands) کی سوزش یا انفیکشن کو کہا جاتا ہے۔ ہمارے منہ میں تین بڑے غدود ہوتے ہیں: پیروٹڈ (Parotid - کانوں کے نیچے)، سب مینڈیبولر (Submandibular - جبڑے کے نیچے)، اور سب لنگول (Sublingual - زبان کے نیچے)۔ جب ان غدود میں لعاب (Thook) کا بہاؤ رک جائے یا جراثیم داخل ہو جائیں تو یہ سوزش پیدا ہوتی ہے۔
علامات
کان کے نیچے یا جبڑے کے نیچے دردناک سوجن ہونا۔
کھانے کے وقت درد بڑھنا، جب کھانا دیکھ کر یا کھاتے وقت تھوک بنتا ہے تو غدود پر دباؤ پڑتا ہے اور درد تیز ہو جاتا ہے۔
منہ کا ذائقہ خراب ہونا، منہ میں بدبودار یا نمکین پانی (پیپ کا ذائقہ) آنا۔
منہ کا خشک ہونا (Dry Mouth)، تھوک کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جس سے منہ میں خشکی ا جاتی ہے۔
بخار اور سردی لگنا، اگر انفیکشن بیکٹیریا کی وجہ سے ہو تو تیز بخار ہو سکتا ہے۔
منہ کھولنے میں دشواری، سوجن اور درد کی وجہ سے جبڑا پورا نہیں کھلتا۔
وجوہات:
بیکٹیریل یا وائرل انفیکشن:
سب سے عام وجہ
Staphylococcus aureus
بیکٹیریا یا ممس (Mumps/کن پیڑے) کا وائرس ہے۔
تھوک کی پتھری (Sialolithiasis):
غدود کی نالی (Duct) میں کیلشیم کی چھوٹی پتھری بن جانا جو تھوک کا راستہ روک دیتی ہے۔
پانی کی شدید کمی (Dehydration):
جسم میں پانی کم ہونے سے تھوک گاڑھا ہو جاتا ہے اور جراثیم آسانی سے حملہ کرتے ہیں۔
منہ کی خراب صحت (Poor Oral Hygiene): دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی نہ رکھنے سے جراثیم غدود تک پہنچ جاتے ہیں۔
دیرینہ بیماریاں:
جیسے Sjogren's syndrome (ایک آٹو امیون بیماری جس میں منہ اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں)۔
تشخیص :
جسمانی معائنہ (Clinical Examination): معالج غدود کو دبا کر سوجن، درد اور پیپ کے اخراج کا معائنہ کرتا ہے۔
الٹراساؤنڈ یا سی ٹی اسکین (Ultrasound / CT Scan): یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں نالی میں کوئی پتھری (Stone) یا رسولی تو نہیں ہے۔
کلچر ٹیسٹ (Culture Test): اگر منہ میں پیپ آ رہی ہو تو اس کا ٹیسٹ کر کے مخصوص بیکٹیریا کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی علامات (Simillimum) کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ سائلادینائٹس کے لیے بہترین ادویات درج ذیل ہیں:
Merc Sol
یہ اس مرض کی سب سے پہلی اور بہترین دوا ہے۔ جب منہ سے بہت زیادہ بدبودار تھوک نکلے، زبان پر دانتوں کے نشان ہوں، اور رات کو درد بڑھے۔
Belladonna:
سوجن کے ابتدائی مرحلے میں جب غدود سرخ، گرم اور چمکدار ہوں، اور درد اچانک آئے اور دھڑکن جیسا (Throbbing) ہو۔
Phytolacca Decandra:
غدود لوہے کی طرح سخت ہو جائیں، درد کانوں تک جائے، اور نگلتے وقت شدید تکلیف ہو۔
Conium Maculatum:
اگر غدود کی سوجن پرانی (Chronic) ہو جائے اور وہ پتھر کی طرح سخت ہو جائیں، خصوصاً چوٹ لگنے کے بعد۔
Calcarea Fluorica: تھوک کی پتھری (Sialolithiasis)
کی وجہ سے غدود سخت ہو گئے ہوں تو یہ پتھری کو گھلانے میں مددگار ہے۔
Silicea:
اگر غدود میں پیپ (Abscess) پڑ جائے اور وہ خارج نہ ہو رہی ہو، تو یہ دوا پیپ کو نکال کر زخم بھرتی ہے۔
Hepar Sulph:
غدود میں شدید درد ہو جیسے سوئی چبھ رہی ہو (Splinter-like pain) اور مریض چھونے اور ٹھنڈی ہوا سے انتہائی حساس ہو۔
Rhus Toxicodendron:
جب سوزش کے ساتھ بائیں طرف کے غدود زیادہ متاثر ہوں اور گرم ٹکور سے آرام آئے۔
Pulsatilla:
منہ خشک ہو لیکن پیاس بالکل نہ لگے، اور مریض کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرے۔
Lachesis:
اگر غدود کی سوزش بائیں طرف شروع ہو کر دائیں طرف جائے اور گلے کے گرد معمولی دباؤ بھی برداشت نہ ہو۔
پرہیز
کیا نہ کھائیں؟:
سخت اور خشک غذائیں: جیسے بسکٹ، چپس، یا سخت گوشت جنہیں چبانے اور نگلنے میں زیادہ طاقت لگے اور تھوک زیادہ بنانا پڑے۔
زیادہ میٹھی اور لیس دار چیزیں:
یہ منہ میں جراثیم کی تعداد بڑھاتی ہیں۔
گرم اور تیز مصالحے دار کھانے:
یہ سوجے ہوئے غدود اور گلے میں جلن پیدا کرتے ہیں۔
کیفین اور الکحل:
چائے اور کافی کا زیادہ استعمال جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتا ہے۔
کیا کھائیں؟:
نرم اور نیم گرم غذائیں: دلیہ، کھچڑی، سوپ، اور ابلے ہوئے آلو۔
کھٹی چیزیں (محدود مقدار میں):لیموں پانی یا سنگترہ (اگر بہت زیادہ درد نہ ہو) کیونکہ کھٹاس تھوک کے بہاؤ کو تیز کرتی ہے، جس سے نالی کا بلاکیج کھل سکتا ہے۔
گھریلو ٹوٹکے:
دن میں 3 سے 4 بار نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے اور کلیاں کریں تاکہ منہ کے جراثیم ختم ہوں۔
متاثرہ غدود پر گرم کپڑے یا واٹر بیگ سے ہلکی ٹکور کریں۔ اس سے خون کی گردش بڑھے گی اور درد میں آرام آئے گا۔
جبڑے کے نیچے سے اوپر کی طرف یا کان سے نیچے کی طرف انگلیوں سے ہلکا دباؤ دیتے ہوئے مساج کریں تاکہ نالی میں پھنسا ہوا تھوک باہر نکل سکے۔
شوگر فری لیموں والی کینڈیز چوسنے سے تھوک زیادہ بنتا ہے جو غدود کی صفائی کرتا ہے۔اس لیے ایسی کینڈیز چوسنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
حفاظتی تدابیر :
دن میں کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پیئیں تاکہ لعاب دہن پتلا رہے اور جمنے نہ پائے۔
دن میں دو بار برش کریں اور ماؤتھ واش کا استعمال کریں۔
سگریٹ یا چھالیہ کا استعمال غدود کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ان سے مکمل پرہیز کریں۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
چھٹی قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation