Back to Blog
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
پانچویں قسط
اورل تھرش (Oral Thrush)
یا
اورل کینڈیڈایسس
(Oral Candidiasis
یا منہ کا فنگل انفیکشن
ایک عام مگر تکلیف دہ مرض ہے
یہ منہ کے اندر ہونے والا ایک فنگل انفیکشن ہے جو کینڈیڈا ایل بیکنز (Candida albicans) نامی ایسٹ
(Yeast/Fungus)
کی ضرورت سے زیادہ نشوونما کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ فنگس عام طور پر ہمارے منہ میں معمولی مقدار میں موجود ہوتی ہے اور نقصان نہیں پہنچاتی، لیکن جب جسم کا مدافعت کا نظام (Immune System) کمزور ہو جائے یا منہ کا قدرتی ماحول خراب ہو، تو یہ تیزی سے پھیل کر انفیکشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
علامات :
سفید دھبے:
زبان، گالوں کے اندرونی حصے، تالو اور مسوڑھوں پر دہی جیسے لیس دار سفید یا کریم رنگ کے دھبے۔
سرخی اور سوزش:
سفید تہہ کے نیچے منہ کے اندر شدید سرخی، سوجن اور چھالے ہونا۔
خون آنا:
اگر سفید دھبوں کو کھرچنے یا صاف کرنے کی کوشش کی جائے تو وہاں سے معمولی خون نکل سکتا ہے۔
درد اور جلن:
کھانے پینے، نگلنے یا بات کرنے کے دوران منہ میں شدید جلن اور درد۔
ذائقہ بدلنا:
منہ کا ذائقہ کڑوا یا بے ذائقہ ہو جانا، یا کپاس جیسا خشک احساس ہونا۔
کونوں کا پھٹنا:
ہونٹوں کے کناروں پر خشکی، سرخی اور دراڑیں پڑنا (Angular Cheilitis)۔
وجوہات :
اینٹی بائیوٹکس کا کثرت سے استعمال:
یہ منہ کے اچھے بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہیں، جس سے فنگس کو پھیلنے کا موقع ملتا ہے۔
کمزور قوت مدافعت:
شوگر (Diabetes)، کینسر، ایچ آئی وی (HIV) یا طویل بیماریوں کی وجہ سے مدافعت کا کمزور ہونا۔
سٹیرائڈ انیلرز (Steroid Inhalers):
دمہ (Asthma) کے مریض جو انہیلر استعمال کرنے کے بعد منہ صاف نہیں کرتے۔مصنوعی دانت (Dentures):
گندے یا ڈھیلے مصنوعی دانت پہننا، خاص طور پر رات کو سوتے وقت نہ اتارنا۔
منہ کی خشکی (Dry Mouth):
لعابِ دہن کی کمی۔
تشخیص:
کلینیکل معائنہ:
عام طور پر ایک تجربہ کار معالج منہ کے اندرونی حصے اور زبان پر موجود مخصوص سفید دھبوں کو دیکھ کر ہی اس کی تشخیص کر لیتا ہے۔
اسکر crappy ٹیسٹ:
اگر ضرورت ہو تو سفید تہہ سے تھوڑا سا مواد کھرچ کر مائیکروسکوپ کے نیچے فنگس کی موجودگی چیک کی جاتی ہے۔
خون کے ٹیسٹ:
بار بار انفیکشن ہونے کی صورت میں بنیادی وجہ (جیسے شوگر یا دیگر امراض) جاننے کے لیے بلڈ ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں اورل تھرش کا علاج مریض کی مجموعی علامات اور مزاج (Constitutional Symptoms) کے مطابق کیا جاتا ہے۔ درج ذیل اہم ادویات اس مرض میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں:
1.Borax (بوریکس):
اورل تھرش کے لیے ہومیوپیتھی کی سب سے پہلی اور بہترین دوا۔ منہ میں شدید گرمی کا احساس، سفید دہی جیسے دھبے جو کھرچنے سے خون نکالیں، چھوٹے بچے دودھ پیتے ہوئے روئیں ۔
2. Mercurius Solubilis (مرک سال):
منہ میں بہت زیادہ تھوک یا رال کا بہنا، سانس سے شدید بدبو آنا، زبان سوجی ہوئی اور اس پر دانتوں کے نشانات، اور رات کے وقت علامات کا بڑھ جانا۔
3. Nitricum Acidum (نائٹرک ایسڈ):
منہ اور ہونٹوں کے کونوں پر دردناک کٹاؤ (Fissures)۔ نگلتے وقت چبھنے والا شدید درد جیسے کانٹا چبھا ہوا ہو۔
4.Antimonium Crudum (انٹم کروڈ):
زبان پر دودھ جیسی موٹی سفید تہہ جمی ہونا۔ اس کے ساتھ معدے کی خرابی اور بھوک کا نہ لگنا نمایاں علامات ہیں۔
5. Sulfur (سلفر)
منہ میں شدید جلن اور خشکی۔ مریض کو ٹھنڈی چیزوں کی خواہش ہوتی ہے اور صبح کے وقت علامات بڑھ جاتی ہیں۔ پرانے اور بار بار ہونے والے تھرش کے لیے مفید ہے۔
6.Baptisia (بیپٹیشیا):
منہ سے شدید سڑاند دار بدبو، مسوڑھوں کا رنگ نیلا مائل سرخ ہونا، اور نگلنے میں انتہائی دشواری (صرف مائع چیزیں نگلی جا سکیں)۔
7. Arsenicum Album (آرسینک البم):
منہ میں آگ جیسی جلن جو گرم مشروبات سے بہتر ہو۔ پیاس بار بار لیکن تھوڑا تھوڑا پانی پینے کی ہو۔ مریض میں بے چینی زیادہ ہوتی ہے۔
8.Echinacea (ایکینیشیا):
یہ دوا جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) کو مضبوط کرتی ہے اور فنگل انفیکشن کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔
9. Kali Muriaticum (کالی میور):
زبان پر گرے یا سفید رنگ کی موٹی لیس دار تہہ۔ یہ تھرش کی ثانوی اسٹیج (Secondary Stage) میں بہت اچھا کام کرتی ہے۔
حفاظتی تدابیر :
اورل ہائیجین:
دن میں دو بار نرم برسٹل والے برش سے دانت صاف کریں اور زبان کو بھی ہلکے ہاتھ سے صاف کریں۔
انہیلر کا استعمال:
دمہ کے مریض سٹیرائڈ انہیلر استعمال کرنے کے فوراً بعد پانی سے اچھی طرح کلیاں اور غرارے کریں۔
مصنوعی دانتوں کی صفائی:
ڈینچرز کو روزانہ صاف کریں اور رات کو سوتے وقت منہ سے نکال کر مخصوص محلول میں رکھیں۔
ٹوٹھ برش کی تبدیلی: انفیکشن ٹھیک ہونے کے بعد اپنا ٹوٹھ برش لازمی تبدیل کریں تاکہ دوبارہ انفیکشن نہ ہو۔
گھریلو ٹوٹکے :
نمکین پانی کے غرارے:
آدھا چمچ نمک ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملا کر دن میں 2 سے 3 بار کلیاں کریں۔ نمک فنگس کی نشوونما کو روکتا ہے۔
دہی کا استعمال:
دہی میں موجود پروبائیوٹکس (اچھے بیکٹیریا) فنگس کے خلاف لڑتے ہیں۔ روزانہ ایک پیالی سادہ دہی کھائیں اور اسے تھوڑی دیر منہ میں روک کر رکھیں۔
ناریل کا تیل (Oil Pulling):
ایک چمچ خالص ناریل کا تیل منہ میں ڈال کر 5-10 منٹ تک گھمائیں (غڑغڑے کریں) اور پھر تھوک دیں۔ اس میں موجود لورک ایسڈ فنگس کو ختم کرتا ہے۔
بیکنگ سوڈا:
آدھا چمچ بیکنگ سوڈا گرم پانی میں ملا کر کلیاں کرنے سے منہ کی تیزابیت کم ہوتی ہے اور فنگس کا خاتمہ ہوتا ہے۔
غذائی پرہیز :
فنگس یا ایسٹ (Yeast) اپنی نشوونما کے لیے چینی اور نشاستہ پر انحصار کرتی ہے۔ اس لیے درج ذیل پرہیز انتہائی ضروری ہے:
میٹھی چیزوں سے سخت پرہیز:
چینی، مٹھائیاں، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس، ڈبے کے جوسز اور بیکری کی اشیاء سے مکمل پرہیز کریں۔
خمیر شدہ غذاؤں (Yeast Foods) کا پرہیز:
ڈبل روٹی، نان، پیزا، پنیر (Cheese)، اور سرکے والی اشیاء کا استعمال بند کر دیں۔
نشاستہ دار اشیاء میں کمی:
آلو، سفید چاول اور سفید آٹے (میدے) کا استعمال کم سے کم کریں۔
مفید غذا:
ہری سبزیاں، لہسن (جس میں اینٹی فنگل خصوصیات ہیں)، لیموں پانی (بغیر چینی)، اور دہی کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔
* نوٹ: علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
پانچویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation