Back to Blog
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
چوتھی قسط
منہ کے چھالے
(Aphthous Ulcers
یا Canker Sores)
ایک انتہائی تکلیف دہ لیکن عام مسئلہ ہے، جو زبان، مسوڑھوں، گالوں کے اندرونی حصے یا ہونٹوں کے اندر بنتے ہیں۔
علامات:
منہ کے چھالے چھوٹے، گول یا بیضوی (oval) ہوتے ہیں جن کا مرکز سفید یا زرد اور کنارے سرخ ہوتے ہیں۔ یہ چھوت دار (contagious) نہیں ہوتے، یعنی ایک شخص سے دوسرے کو نہیں لگتے۔
شدید درد: خاص طور پر کچھ کھاتے، پیتے یا بولتے وقت۔
جلن کا احساس: چھالا نکلنے سے ایک دو دن پہلے اس جگہ پر چبھن یا جلن محسوس ہونا۔
سوجن: چھالے کے ارد گرد کے حصے کا سرخ اور سوج جانا۔ شدید کیسز میں
سستی، بخار، یا گردن کے غدود (lymph nodes) میں سوجن۔
وجوہات :
اگرچہ اس کی کوئی ایک حتمی وجہ نہیں ہے، لیکن مندرجہ ذیل عوامل اس کا باعث بنتے ہیں:
مقامی چوٹ:
دانت کا حادثاتی طور پر کٹ جانا، سخت ٹوتھ برش کا استعمال، یا ڈینٹل بریسز (braces) کا لگنا۔
غذائی نقصانات:
وٹامن B-12، زنک، فولک ایسڈ اور آئرن کی کمی۔
معدے کی خرابی:
تیزابیت (acidity)، قبض، یا پیٹ کی گرمی۔
دباؤ اور ذہنی تناؤ (Stress):
نیند کی کمی اور ذہنی تھکن۔
مخصوص غذائیں:
زیادہ مرچ مصالحے، کھٹے پھل (citrus fruits) یا چاکلیٹ کا کثرت سے استعمال۔
ٹوٹھ پیسٹ:
ایسے ٹوتھ پیسٹ جن میں Sodium Lauryl Sulfate (SLS) شامل ہو۔
تشخیص :
عام طور پر اس کی تشخیص کے لیے کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر چھالے کی ظاہری شکل دیکھ کر ہی اس کی پہچان کر لیتے ہیں۔ تاہم اگر چھالے 2 ہفتوں سے زیادہ رہیں، بہت بڑے ہوں، یا بار بار نکلیں، تو خون کے ٹیسٹ (وٹامن اور آئرن کی کمی جانچنے کے لیے) یا شاذ و نادر صورتوں میں بائیوپسی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں چھالوں کا علاج مریض کی مخصوص علامات اور مزاج (constitutional symptoms) کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ذیل چند ادویات دی گئی ہیں جو اس کے لیے بہترین مانی جاتی ہیں:
1 Mercurius Solubilis
منہ کے چھالوں کی ہومیوپیتھی میں سب سے پہلی اور بڑی دوا۔ منہ میں کثرت سے تھوک (salivation) آنا، سانس میں بدبو، رات کو تکلیف کا بڑھنا اور پیاس کی شدت۔
2. Borax
خاص طور پر بچوں اور حساس لوگوں کے لیے۔ چھالے بہت دکھنے والے اور گرم ہوتے ہیں، جن سے خون نکلنے کا رجحان ہوتا ہے۔ منہ کا اندرونی حصہ گرم محسوس ہوتا ہے۔
3. Nitric Acid
جب چھالوں میں چبھنے والا شدید درد ہو (جیسے کانٹا چبھ رہا ہو)۔ چھالوں کے کنارے بے ترتیب ہوتے ہیں اور ان سے آسانی سے خون نکل آتا ہے۔
4 Arsenicum Album
چھالوں میں شدید جلن ہوتی ہے جو گرم پانی یا گرم مشروب پینے سے بہتر ہوتی ہے۔ مریض میں بے چینی اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیاس لگتی ہے۔
5. Natrum Mur
ہونٹوں کے اندرونی حصے یا زبان پر دانے اور چھالے۔ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جن کا معدہ خراب رہتا ہو اور وہ نمک کے شوقین ہوں۔
6. Sulphur
پرانے اور بار بار ہونے والے چھالے۔ منہ کا ذائقہ کڑوا یا کھٹا، صبح کے وقت تکلیف زیادہ ہونا اور ٹھنڈی چیزوں کی خواہش۔
7 Nux Vomica
کثرتِ شراب نوشی، مرچ مصالحے دار غذاؤں، یا ایلوپیتھک ادویات کے زیادہ استعمال کے بعد ہونے والے چھالے جو قبض اور معدے کی خرابی کے ساتھ ہوں۔
8. Hydrastis Canadensis
سست ہاضمے اور معدے کی کمزوری کے ساتھ چھالے۔ زبان پر پیلی رنگت کی تہہ جمی ہوتی ہے اور تھوک لیس دار (sticky) ہوتا ہے۔
9. Capsicum
منہ اور حلق میں شدید مرچیں لگنے جیسا احساس اور جلن۔ یہ دوا ان چھالوں میں مفید ہے جہاں جلن ناقابلِ برداشت ہو۔
10. Baptisia
اگر چھالوں کی وجہ سے منہ سے شدید بدبو آ رہی ہو اور مسوڑھے نیلگوں مائل سرخ ہو جائیں۔ مریض سستی اور نڈھال پن محسوس کرتا ہے۔
مقامی استعمال (Local Application) کے لیے Calendula Q یا Echinacea Q کے چند قطرے آدھے کپ پانی میں ملا کر کلیاں کرنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
گھریلو ٹوٹکے :
نمکین پانی کے غرارے:
ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر دن میں 2 سے 3 بار کلیاں کریں۔ یہ چھالوں کو سکھانے میں مدد کرتا ہے۔
شہد کا استعمال:
شہد میں قدرتی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہوتی ہیں۔ چھالے پر خالص شہد لگانے سے درد اور جلن میں فوری ریلیف ملتا ہے۔
ناریل کا تیل:
ناریل کا تیل چھالے پر لگانے سے سوزش کم ہوتی ہے اور یہ ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے۔
ایلوویرا جیل:
تازہ ایلوویرا کا گودا چھالے پر لگانے سے ٹھنڈک پہنچتی ہے اور زخم جلدی بھرتا ہے۔
حفاظتی تدابیر اور غذائی ہدایات
کیا کھائیں؟
ٹھنڈی اور نرم غذائیں:
دہی، کھیر، دلیا، اور ساگو دانہ استعمال کریں کیونکہ یہ معدے کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں۔
وٹامن سے بھرپور غذا:
ہری مرچوں کے بغیر پکی ہوئی سبزیاں، دالیں اور ایسے پھل جو کھٹے نہ ہوں (جیسے کیلا، سیب)۔
پانی کا زیادہ استعمال:
دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پیئیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور پیٹ کی گرمی ختم ہو۔
کس چیز سے پرہیز کریں؟
*مرچ مصالحے اور تلی ہوئی اشیاء: سموسے، پکوڑے، پیزا، اور تیز سرخ یا کالی مرچ والے کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔
ترش (Citrus) پھل:
لیموں، مالٹا، ٹماٹر، اور انناس وغیرہ سے دور رہیں کیونکہ ان کا تیزاب چھالوں کی تکلیف بڑھا دیتا ہے۔
چائے اور کافی:
زیادہ گرم چائے، کافی یا کاربونیٹڈ ڈرنکس (کولڈ ڈرنکس) کا استعمال روک دیں۔
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں
نرم برش کا استعمال:
دانت صاف کرنے کے لیے ہمیشہ سافٹ (Soft) برسلز والا ٹوتھ برش استعمال کریں تاکہ مسوڑھے یا گال زخمی نہ ہوں۔
کیمیکل فری ٹوتھ پیسٹ:
ایسا پیسٹ منتخب کریں جو ہومیوپیتھک یا ہربل ہو اور SLS سے پاک ہو۔
دماغی سکون:
ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مناسب نیند لیں اور چہل قدمی کو معمول بنائیں۔
نوٹ: علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
چوتھی قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation