Shama Homeo Clinic Logo
Shama Homeo Clinic
Get Well, Stay Well
Back to Blog

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج: ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS 03037578803 (دوسری قسط) 2 Periodontitis پیریاڈونٹائٹس یہ مسوڑھوں اور دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈیوں کا ایک سنگین انفیکشن ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دانتوں کے ہلنے اور گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ جب دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو ان پر بیکٹیریا کی ایک تہہ جم جاتی ہے جسےPlaque (پلیک) کہتے ہیں۔ اگر یہ پلیک طویل عرصے تک موجود رہے تو یہ سخت ہو کر Tartar (ٹارٹر/پتھری) بن جاتا ہے۔ یہ سوزش پہلے مسوڑھوں تک محدود ہوتی ہے جسے Gingivitis کہتے ہیں، اور جب یہ شدت اختیار کر کے دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی Alveolar Bone تک پہنچ جائے تو اسے Periodontitis کہا جاتا ہے۔ مسوڑھوں کا سوج جانا، سرخ یا جامنی رنگت اختیار کرنا اور دانتوں کا ہلنا اس کی علامات میں شامل ہے وجوہات: پلاک اور ٹارٹر کا جمنا: دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی نہ کرنا بنیادی وجہ ہے۔ تمباکو نوشی (Smoking/Smoking Tobacco): یہ مسوڑھوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے اور علاج کے اثر کو روکتی ہے۔ ذیابیطس (Diabetes): شوگر کے مریضوں میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہارمونل تبدیلیاں: خواتین میں حمل، مینوپاز یا ماہواری کے دوران مسوڑھے حساس ہو جاتے ہیں۔ غذائی کمی: وٹامن سی Vitamin C اور کیلشیم کی شدید کمی مدافعتی بیماریاں: جیسے HIV یا کینسر کا علاج، جو جسم کی لڑنے کی صلاحیت کم کر دیتے ہیں۔ تشخیص: معائنہ (Clinical Examination): مسوڑھوں کی رنگت، سوجن اور خون آنے کا جائزہ لینا۔ Periodontal Probe: ایک خاص باریک اوزار کے ذریعے مسوڑھوں اور دانتوں کے درمیان کی گہرائی (Pockets) کو ناپنا۔ 4 ملی میٹر سے زیادہ گہرائی بیماری کی علامت ہے۔ دانتوں کا ایکسرے Dental X-ray: یہ دیکھنے کے لیے کہ دانت کے نیچے موجود ہڈی کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ 5. حفاظتی تدابیر: دن میں کم از کم دو بار فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے نرم برش کریں۔ دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ذرات نکالنے کے لیے روزانہ خلال یا Flossing یعنی دھاگے سے صفائی کریں ہر 3 سے 4 ماہ بعد اپنا ٹوتھ برش تبدیل کریں۔ تمباکو نوشی اور چھالیہ، گٹکا وغیرہ سے مکمل پرہیز کریں۔ ہر چھ ماہ بعد ڈینٹسٹ سے دانتوں کی سکیلنگ (صفائی) کروائیں۔ 6. غذائی ہدایات: وٹامن سی سے بھرپور غذا: مالٹا، لیموں، امرود، اور ہری مرچیں کھائیں تاکہ مسوڑھوں کو طاقت ملے۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی: دودھ، دہی، پنیر اور انڈے کا استعمال کریں تاکہ دانتوں کی ہڈی مضبوط رہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس: سبز چائے (Green Tea) کا استعمال کریں، یہ مسوڑھوں کی سوزش کو کم کرتی ہے۔ کرنچی سبزیاں اور پھل: سیب اور کچی گاجر چبانے سے مسوڑھوں کی قدرتی ورزش ہوتی ہے اور تھوک (Saliva) زیادہ بنتا ہے جو بیکٹیریا کو صاف کرتا ہے۔ پرہیز: میٹھی اشیاء، کولڈ ڈرنکس، اور چپکنے والی غذاؤں (جیسے چاکلیٹ، بسکٹ) سے پرہیز کریں کیونکہ یہ بیکٹیریا کی خوراک بنتی ہیں۔ 7. ہومیوپیتھک علاج ہومیوپیتھی میں علامات کی بنیاد پر علاج کیا جاتا ہے۔ Periodontitis کے لیے درج ذیل ادویات انتہائی موثر ثابت ہوتی ہیں: 1. Mercurius Solubilis: یہ مسوڑھوں کے امراض کی سب سے بڑی دوا ہے۔ منہ سے شدید بدبو آنا، رال کا زیادہ بہنا، مسوڑھوں سے خون اور پیپ آنا، اور رات کے وقت درد کا بڑھ جانا اس کی خاص علامات ہیں۔ 2. Kreosotum: مسوڑھوں سے بہت جلد سیاہ اور بدبودار خون نکلنا، دانتوں کا تیزی سے گلنا سڑنا (Decay) اور مسوڑھوں کا رنگ نیلا مائل یا سرخ ہونا۔ 3. Carbo Vegetabilis - 30/200: جب مسوڑھے بالکل لٹک جائیں، دانتوں سے الگ ہو جائیں اور برش کرتے وقت یا چباتے وقت ان سے آسانی سے خون بہنے لگے۔ منہ کا ذائقہ کڑوا ہو۔ 4. Hekla Lava - 3x: اگر انفیکشن دانتوں کی جڑوں اور جبڑے کی ہڈی (Gingival & Bone Necrosis) تک پہنچ چکا ہو، چہرے پر سوجن ہو اور دانت ہلنے لگے ہوں تو یہ ہڈیوں کو مضبوط کرنے کے لیے بہترین ہے۔ 5.Silicea : جب مسوڑھوں میں شدید ریشہ (Pus) پڑ چکا ہو، جڑوں میں پس کے دانے (Abscess) بن گئے ہوں اور چھونے سے شدید درد ہو۔ 6. Phosphorus : مسوڑھوں سے ہلکی سی رگڑ پر بھی سرخ چمکدار خون کا تیزی سے بہنا۔ یہ دوا خون بہنے کے رجحان کو روکتی ہے۔ 7. Nitricum Acidum : مسوڑھوں میں سوئیاں چبھنے جیسا درد ہونا، منہ میں چھالے بننا، اور مسوڑھوں کا رنگ ہلکا پڑ جانا۔ 8. Staphysagria: دانتوں کا بہت زیادہ حساس ہونا (ٹھنڈا گرم لگنا)، مسوڑھے کالے اور کھوکھلے دکھائی دیں اور دانتوں پر سیاہ لکیریں پڑ جائیں۔ 9. Plantago Major Q: دانتوں اور مسوڑھوں کے شدید درد کے لیے اکسیر ہے۔ اس کے مدر ٹنکچر (Q) کو روئی پر لگا کر متاثرہ مسوڑھے پر رکھنے سے فوری آرام آتا ہے۔ 10.Calendula Officinalis - Q (As a Mouthwash): یہ ہومیوپیتھی کا قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔ اس کے مدر ٹنکچر کے 10 سے 15 قطرے آدھے کپ نیم گرم پانی میں ملا کر کلیاں کرنے سے مسوڑھوں کا انفیکشن اور سوجن بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ نوٹ: علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی دوسری قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی، میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ شکریہ

Consult with our Specialists

Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.

Book a Consultation
Book Appointment WhatsApp
Shama Assistant
Online
Hello! Welcome to Shama Homeo Clinic. 🌿 I am your AI receptionist. How can I help you today?
Just now
0
Cart Summary
Rs. 0
Checkout Now
Search Products
Start typing to search products...
Your Cart
0
Your Cart is Empty

You haven't added any homeopathic remedies to your cart yet.

Explore Shop