Shama Homeo Clinic Logo
Shama Homeo Clinic
Get Well, Stay Well
Back to Blog

Type 2 Diabetes :

Type 2 Diabetes :
ٹائپ ٹو شوگر Type 2 Diabetes : ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS 03037578803 یہ ایک طویل المیعاد Chronic میٹابولک عارضہ ہے جس میں جسم یا تو انسولین Insulin کی مطلوبہ مقدار پیدا نہیں کر پاتا یا خلیات Cells انسولین کے خلاف مزاحمت Insulin Resistance پیدا کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خون میں شکر Glucose کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ یہ بیماری عام طور پر ان افراد میں پائی جاتی ہے جن کے والدین یا بہن بھائیوں میں شوگر کی تاریخ ہو۔ موٹاپا اور جسمانی وزن کا زیادہ ہونا، خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی کا جمع ہونا بھی اس مرض کا باعث ہو سکتا ہے ورزش یا جسمانی محنت کا فقدان جی اس کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، 45 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم اب یہ کم عمر افراد میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، اور زیادہ کاربوہائیڈریٹ والی اشیاء کا بکثرت استعمال بھی اس کا سبب ہو سکتا ہے، جن افراد کا بلڈ پریشر یا خون میں چکنائی (Triglycerides) کی سطح زیادہ ہو ان کو ٹائپ ٹو شوگر کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ـ ٹائپ ٹو شوگر کی علامات اکثر اتنی آہستہ ظاہر ہوتی ہیں کہ شروع میں اندازہ نہیں ہوتا۔ بار بار پیشاب آنا (خاص طور پر رات کے وقت)۔ شدید پیاس کا احساس ہونا۔ ہر وقت شدید بھوک لگنا، اس کے باوجود وزن کا تیزی سے کم ہونا۔ جسم میں مستقل تھکن،کمزوری اور کاہلی کا رہنا۔ نظر کا دھندلا پن Blurry Vision۔ ہاتھوں یا پیروں میں سن پن، سویاں چبھنا یا جلن ہونا۔ زخموں کا بہت دیر سے بھرنا اور بار بار انفیکشن (جیسے جلد یا مسوڑھوں کے امراض) ہونا ٹائپ تو زیابیطس کی اہم علامات ہیں ـ ٹائپ ٹو شوگر کی تشخیص کے لیے عام طور پر خون کے درج ذیل ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں: فاسٹنگ بلڈ شوگر (Fasting Blood Glucose): کم از کم 8 گھنٹے کچھ کھائے بغیر ٹیسٹ 126 mg/dL یا اس سے زیادہ شوگر ہو تو ذیابیطس کی موجود ہوتی ہے۔ HbA1c یہ ٹیسٹ پچھلے 3 ماہ کے دوران خون میں شکر کی اوسط سطح بتاتا ہے 6.5% یا اس سے زیادہ ہونا شوگر کی علامت ہے۔ رینڈم بلڈ شوگر Random Blood Sugar دن کے کسی بھی وقت لیا گیا ٹیسٹ 200 mg/dL یا اس سے زائد شوگر کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں ٹائپ ٹو شوگر کے علاج کے لیے مریض کی مجموعی علامات، مزاج اور جسمانی عوارض کو مدنظر رکھ کر ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ چند معروف ادویات کا یہ ہیں سائزییجم جیمبولینم Syzygium Jambolanum: اسے ہومیوپیتھی میں شوگر کی بنیادی دوا مانا جاتا ہے۔ یہ خون میں شکر کی مقدار کو تیزی سے کم کرنے اور پیشاب میں شکر آنے کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔ عام طور پر مدر ٹنکچر Q میں استعمال ہوتی ہے۔ یورینیم نائٹریکم Uranium Nitricum ایسی شوگر جس میں مریض کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہو، بہت زیادہ پیاس لگے، منہ کا ذائقہ کڑوا ہو اور پیشاب بہت زیادہ مقدار میں آئے، اس کے لیے مفید ہے۔ ایسڈم فاسفوریکم Acidum Phosphoricum: ذہنی تھکن، صدمے، یا غم کے نتیجے میں ہونے والی شوگر۔ مریض ذہنی و جسمانی طور پر انتہائی نڈھال ہوتا ہے، پیاس زیادہ لگتی ہے اور پیشاب دودھیا یا سفیدی مائل ہو سکتا ہےا جیمنما Gymnema Sylvestre: لبلبے (Pancreas) کے افعال کو بہتر بناتی ہے اور انسولین کی پیداوار میں معاون ہوتی ہے ۔ نتٹرم میور خNatrum Muriaticum ان افراد کے لیے جو بہت زیادہ غمگین رہتے ہوں، جنہیں نمکین اشیاء کھانے کی شدید خواہش ہو، ہونٹ خشک یا پھٹے ہوئے ہوں اور ساتھ میں شوگر کی شکایت ہو۔ پلمبم میٹلیکم Plumbum Metallicum: اگر شوگر کے ساتھ اعصابی کمزوری، فالج کے اثرات یا پیروں کے سن ہونے کی شکایت ہو، تو یہ دوا بہت اثر دکھاتی ہے۔ آرسینک ایلْبم Arsenicum Album بے چینی، گھبراہٹ، رات کے وقت طبیعت کا زیادہ خراب ہونا، اور ذیابیطس کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری میں مفید ہے۔ سلفر Sulphur: جسم پر خارش، جلد کے امراض، اور پرانی شوگر کے مریض جن کے ہاتھ پاؤں بالخصوص تلوے جلتے ہوں، ان کے لیے بہترین دوا ہے۔ لائیکوپوڈیم Lycopodium Clavatum: نظامِ ہاضمہ کی خرابی، جگر کے امراض، پیٹ میں گیس اور اپھارہ رہنے کے ساتھ اگر شوگر کی تشخیص ہو تو یہ دوا دی جاتی ہے۔ فاسفورس Phosphorus: شوگر کے مریضوں میں جب آنکھوں کے امراض جیسے موتیا یا پردہ چشم کی کمزوری یا پھیپھڑوں کی کمزوری کے آثار ظاہر ہوں تو یہ دوا مریض کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتی ہے۔ ٹائپ ٹو شوگر کو قابو میں رکھنے یا اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر انتہائی ضروری ہیں ـ چینی، مٹھائیاں، کولڈ ڈرنکس، سفید آٹا ، بیکری آئٹمز اور فاسٹ فوڈ سے مکمل پرہیز کریں۔ سبز پتے والی سبزیوں، سلاد، پھلوں ، دلیہ، اور پروٹین کا استعمال بڑھائیں۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز چہل قدمی Walk، رننگ یا ہلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ جسمانی وزن کو متوازن اور حدِ اعتدال میں رکھیں۔ ذہنی دباؤ اور ٹینشن انسولین کی سطح کو متاثر کرتی ہے، اس لیے پرسکون رہنے کی کوشش کریں۔ خون میں شکر کی سطح اور بلڈ پریشر کو وقتاٰ فوقتاً چیک کرواتے رہیں۔ یہ پوسٹ صرف عوام الناس کو شوگر سے اگاہی کے لیے دی گئی ہے سیلف میڈیکیشن سے گریز کریں شوگر کی اقسام کی یہ دوسری قسم ہے تیسری قسم کے بارے میں انشاءاللہ اگلی قسم میں بتایا جائے گا ڈاکٹر رضوان ثاقب شمع ہومیو کلینک لاہور پاکستان 03037578803

Consult with our Specialists

Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.

Book a Consultation
Book Appointment WhatsApp
Shama Assistant
Online
Hello! Welcome to Shama Homeo Clinic. 🌿 I am your AI receptionist. How can I help you today?
Just now
0
Cart Summary
Rs. 0
Checkout Now
Search Products
Start typing to search products...
Your Cart
0
Your Cart is Empty

You haven't added any homeopathic remedies to your cart yet.

Explore Shop